بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
Azad
سید المحققین ، سند الفقہاء ،رئیس الفقہاء شیخ التفاسیر والاحادیث والفقہ امام المتکلمین والمرجحین صوفئ باصفا ماہر علوم عقلیہ و نقلیہ صاحب فتح القدیر محمد بن عبد الواحد بن عبد الحمید بن مسعود الکمال بن ھمام الدین ابن حمید الدین بن سعد الدین سیواسی قاہری حنفی مصری رحمہ اللہ تعالیٰ
آپ کی ولادت 788 ھ یا 790 ھ میں سیواس اسکندریہ میں ہوئی
آپ کا خاندان علمی روحانی ادبی نہایت شرف وکمال والا تھا
آپ کا خاندان علمی روحانی ادبی نہایت شرف وکمال والا تھا
سیواس کے قاضی آپ کے آباؤ اجداد ہی تھے ابن ھمام سے مشہور و معروف ہوئے
آپ کے والد اسکندریہ کے قاضی تھے منصب قضاء پر رہتے ہوئے وصال ہوا اس وقت علامہ ابن ھمام کی عمر شریف محض 10 برس کی تھی
آپ نے اپنی نانی کی کفالت میں نشو نما پائی بہت نیک خاتون تھیں قرآن مقدس کے اکثر جز انھیں حفظ تھے
علامہ ابن ھمام قاھرہ تشریف لائے شباب ھیثمی کے پاس قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی
ذھانت وفطانت عقل تام اللہ نے ودیعت فرمائی تھی خاموش طبعیت کے مالک تھے تحقیق کا جنون رہتا تھا پیچیدہ لاینحل مسائل میں توانائ صرف فرماتے
تجوید علامہ زراتیتی اور اسکندریہ میں عبد الرحمن فکیری سے حاصل کیا
قدوری، منار، مفصل از زمخشری ، الفیۃ النحو حفظ کرلیا تھا
قاھرہ سے اسکندریہ واپس آئے علم نحو جمال یوسف حمیدی سے لیا
اور فقہ مکمل علامہ قاری الھدایہ سے 18 سال تک ان کی خدمت میں رہ کر حاصل فرماتے رہے
علامہ ابن ھمام قاھرہ تشریف لائے شباب ھیثمی کے پاس قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی
ذھانت وفطانت عقل تام اللہ نے ودیعت فرمائی تھی خاموش طبعیت کے مالک تھے تحقیق کا جنون رہتا تھا پیچیدہ لاینحل مسائل میں توانائ صرف فرماتے
تجوید علامہ زراتیتی اور اسکندریہ میں عبد الرحمن فکیری سے حاصل کیا
قدوری، منار، مفصل از زمخشری ، الفیۃ النحو حفظ کرلیا تھا
قاھرہ سے اسکندریہ واپس آئے علم نحو جمال یوسف حمیدی سے لیا
اور فقہ مکمل علامہ قاری الھدایہ سے 18 سال تک ان کی خدمت میں رہ کر حاصل فرماتے رہے
منطق عبد السلام بغدادی اور علامہ بساطی سے ، اصول دین بھی علامہ بساطی سے حاصل کیا شرح ھدایہ الحکمہ لملازادہ بھی پڑھی
شرح المطالع جلال ھندی سے پڑھی
بحث ومباحثہ کا عالم یہ تھا کہ علم تفسیر کے استاذ علامہ بدر الاقصرانی کے پاس حاضر ہوتے اور اس قدر دقیق بحثیں ان کے ساتھ کرتے کہ لایجد البدر لہ مخلصا
علامہ بدر بھی خلاصی بآسانی نہ پاتے
بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ وفور ذکاوت بحث ومباحثہ والی طبیعت کی بنیاد پر جب آپ کی آمد ہوتی تو درس منقطع کردیا جاتا
علامہ بدر بھی خلاصی بآسانی نہ پاتے
بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ وفور ذکاوت بحث ومباحثہ والی طبیعت کی بنیاد پر جب آپ کی آمد ہوتی تو درس منقطع کردیا جاتا
علامہ سراج یعنی قاری الھدایہ کے پاس مسلسل 18 سال تک فقہ حاصل کیا بحث و تمحیص ،تحقیق میں وصف کمال سے متصف ہوئے
لیکن فقہ حدیث تفسیر کی طرف متوجہ ہوئے اور مابقیہ کو ترک کردیا
علامہ سراج قاری الھدایہ فرماتے ہیں کہ افاد اکثر مما استفاد
استفادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا
علامہ سراج قاری الھدایہ فرماتے ہیں کہ افاد اکثر مما استفاد
استفادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا
اس قدر علم ہونے کے باجود تواضع انکساری حد درجہ تھی علاء بخاری کی مجلس میں پہنچے اور حلقہ کے جانب بیٹھ گئے حضرت علاء درس میں مشغول تھے پھر آپ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے میری جگہ میرے بغل میں تشریف لائیں کیونکہ ان حاضرین میں سے ہر شخص آپ کی تقدیم اور تعظیم کا معتقد ہے
مقام قدس اور حلب ،حصول علم کی غرض سے حاضر ہوئے
مقام قدس اور حلب ،حصول علم کی غرض سے حاضر ہوئے
علامہ برھان ابناسی نے کہا ہمارے شیخ بساطی اگر چہ علم میں زائد ہیں مگر کمال یعنی ابن ھمام ان سے احفظ اور حاضر ذھن ہیں
مولاناعبدالحیی لکھنوی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کان اماما نظارا فروعیااصولیا محدثا مفسرا حافظا نحویا متکلما منطقیا آپ ایک پیشوا ، عمیق نظرسے پرکھنے والے، اصول و فروع میں ماہر، تفسیر ، حدیث، حفظ، منطق، نحو اور علمِ کلام کے میدان کے شہسوار تھے۔زرکلی نے ان الفاظ کے ساتھ آپ کاتذکرہ کیاہے امام من علماء الحنفيةعارف باصول الدیانات آپ علماء احناف میں بڑے درجے کے امام تھے۔ دین کے بنیادی اصولوں ، تفسیر، میراث ، حساب، لغت ، موسیقی اورمنطق کے عالم تھے۔ زین الدین ابن نجیم مصریؒ نے آپ کو اہل ترجیح میں شمار کیا ہے۔
علامہ شامی نے آپ کو اہل اجتہاد میں شمار فرمایا ہے
علامہ شامی نے آپ کو اہل اجتہاد میں شمار فرمایا ہے
علامہ بساطی نے علاء بخاری کے ساتھ جب مناظرہ کیا ابن فارض کے سبب تو سوال یہ ہوا کہ حکم کس کو قراد دیا جائے جب آپ دونوں اکابر مناظر کی حیثیت سے جلوہ فرما ہونگیں تو جواب آیا ابن ھمام کیونکہ وہ صالح ہیں کہ علماء کے درمیان فیصلہ فرمائیں
یحی بن عطار کہتے ہیں ابن ھمام کی ذات ضرب المثل تھی مثال دی جاتی تھی جمال کے ساتھ ساتھ حفظ نفس ، حسن نغمہ کے ساتھ دیانت اور فصاحت میں ادب کے ساتھ بحث کی استقامت میں
منصب تدریس جس وقت آپ نے سنبھالا اس وقت ایک اجلاس عمل میں لایا گیا آپ کے شیوخ مثلا شیخ بساطی علامہ قاری الھدایہ علامہ بدر اقصرانی و دیگر بندۂ خدا کی موجودگی مجلس کی مسند صدارت پر جلوہ بار ہونے سے ادبا منع فرما دیا بعد تمام اصرار کے علامہ قاری الھدایہ کی جگہ تشریف فرما ہوئے اور اللہ کے فرمان یوتی الحکمۃ من یشاء پر شرح وبسط کے ساتھ کلام فرمایا
آپ کے چند شاگرد جو بذات خود وقت کے امام ہوئے ہیں
علامہ سخاوی ، علامہ سیوطی، زکریا انصاری ، قاسم بن قطلوبغا ، ابن امیر الحاج رحمہھم اللہ تعالیٰ
آپ نے کئ عظیم کتابیں امت کو عطا فرمائی ہیں فتح القدیر فقہ حنفی کی مایہ ناز معتمد مشہور و معروف کتاب ہے جو کہ شرح ہے ھدایہ لامام مرغینانی کی
علامہ سخاوی ، علامہ سیوطی، زکریا انصاری ، قاسم بن قطلوبغا ، ابن امیر الحاج رحمہھم اللہ تعالیٰ
آپ نے کئ عظیم کتابیں امت کو عطا فرمائی ہیں فتح القدیر فقہ حنفی کی مایہ ناز معتمد مشہور و معروف کتاب ہے جو کہ شرح ہے ھدایہ لامام مرغینانی کی
نہایت مقبول ہے علامہ ابن ھمام نے تحقیق کے دریا بہائے ہیں احادیث مبارکہ یا آیت کریمہ اپنے مذھب کی تائید میں ضرور پیش فرماتے بعض مقام پر تفرد بھی اختیار کیا ہے جمہور کے قول سے الگ تھلگ اپنی رائے قائم فرمائ ہے جس سے علمی تمکن کا اندازہ ہوتا ہے
،لیکن تکمیل نا کرسکے کہ حاضر بارگاہ رب العلی ہوگئے اس وقت تک باب الوکالۃ تک تحریر فرمایا تھا بعد ازاں علامہ قاضی زادہ المتوفی 988ھ نے تکمیل فرمائی
اصول فقہ میں التحریر ، المسایرۃ فی اصول الدین علم کلام میں لاجواب یادگار چھوڑی ہے
ان کی تصانیف میں ایک اور رسالہ شامل ہے جو بخاری شریف کی آخری حدیث کلمتان حبیبتان کے متعلق سوال کے جواب میں ہے جس میں ایک عورت ایک رقعہ لے کر آپ کے پاس آئی اور کہا کہ ایک شخص نے بھیجا ہے
جس میں سوال تھا قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کلمتان حبیبتان کے اعراب کے متعلق کیا یہ مبتدا اور سبحان اللہ خبر ہے ؟ یا اس کا عکس ؟ اور جن لوگوں نے سبحان اللہ کو ابتداء کے لئے متعین کردیا ہے ان کا قول صحیح ہے یا نہیں ؟ اور جن لوگوں نے سبحان اللہ پر نصب لازم قرار دیا ان کا قول صحیح ہے یا نہیں ؟
پھر آپ نے اس کا جواب عطا فرمایا جو اس کتاب میں درج ہے
(کتاب مجھے نا مل سکی )
جس میں سوال تھا قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کلمتان حبیبتان کے اعراب کے متعلق کیا یہ مبتدا اور سبحان اللہ خبر ہے ؟ یا اس کا عکس ؟ اور جن لوگوں نے سبحان اللہ کو ابتداء کے لئے متعین کردیا ہے ان کا قول صحیح ہے یا نہیں ؟ اور جن لوگوں نے سبحان اللہ پر نصب لازم قرار دیا ان کا قول صحیح ہے یا نہیں ؟
پھر آپ نے اس کا جواب عطا فرمایا جو اس کتاب میں درج ہے
(کتاب مجھے نا مل سکی )
آپ امام وقت علامہ زماں اصول دین وتفسیر وفقہ و اصول فقہ میں شان تبحر کے حامل علم فرائض ،حساب ، تصوف ،نحو صرف ، معانی ، بیان ، بدیع ، منطق ،جدل ادب، قواعد موسیقی کے ماہر تھے علوم عقلیہ و نقلیہ میں ممتاز تھے
اھل ارض کے عالم محقیقین کی صف اول میں حجۃ قاہرہ وباھرہ رکھنے والے انوکھے محقق تھے
اگر عوارض بدنیہ لاحق نہ ہوتے تو کہا جاتا ہے کہ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوتے
مجمع البحرین سے کتنے عظیم موتی آپنے نکالے اور کتنے فتنوں کو دفن کیا ، جہل کے میدان میں علم کی آگ روشن کی ، علماء کی ایک جماعت پیدا کی جو اپنی زندگی میں سردار ہوئے
اگر عوارض بدنیہ لاحق نہ ہوتے تو کہا جاتا ہے کہ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوتے
مجمع البحرین سے کتنے عظیم موتی آپنے نکالے اور کتنے فتنوں کو دفن کیا ، جہل کے میدان میں علم کی آگ روشن کی ، علماء کی ایک جماعت پیدا کی جو اپنی زندگی میں سردار ہوئے
7 رمضان المبارک 61ھ کو عظیم ستارہ علم وفضل ہم سے رخصت ہوا
مقام قرافہ میں ابن عطاء اللہ کی تربت کے بغل میں ہی آپ کی قبر انور ہے
آپ نے اپنے جیسا کسی کو نا چھوڑا
اللہ تعالی قبر انور پر رحمت ونور کی بارش فرمائے حضرت کے فیوض سے ہم سب کو مستفیض فرمائے
✍️ہشام الدین قادری حنیفی مرکزی
Azad
مضمون نگار: khatmeqadria
سید المحققین ، سند الفقہاء ،رئیس الفقہاء شیخ التفاسیر والاحادیث والفقہ امام المتکلمین والمرجحین صوفئ باصفا ماہر علوم عقلیہ و نقلیہ صاحب فتح القدیر محمد بن عبد الواحد بن عبد الحمید بن مسعود الکمال بن ھمام الدین ابن حمید الدین بن سعد الدین سیواسی قاہری حنفی مصری رحمہ اللہ تعالیٰ
آپ کی ولادت 788 ھ یا 790 ھ میں سیواس اسکندریہ میں ہوئی
آپ کا خاندان علمی روحانی ادبی نہایت شرف وکمال والا تھا
آپ کا خاندان علمی روحانی ادبی نہایت شرف وکمال والا تھا
سیواس کے قاضی آپ کے آباؤ اجداد ہی تھے ابن ھمام سے مشہور و معروف ہوئے
آپ کے والد اسکندریہ کے قاضی تھے منصب قضاء پر رہتے ہوئے وصال ہوا اس وقت علامہ ابن ھمام کی عمر شریف محض 10 برس کی تھی
آپ نے اپنی نانی کی کفالت میں نشو نما پائی بہت نیک خاتون تھیں قرآن مقدس کے اکثر جز انھیں حفظ تھے
علامہ ابن ھمام قاھرہ تشریف لائے شباب ھیثمی کے پاس قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی
ذھانت وفطانت عقل تام اللہ نے ودیعت فرمائی تھی خاموش طبعیت کے مالک تھے تحقیق کا جنون رہتا تھا پیچیدہ لاینحل مسائل میں توانائ صرف فرماتے
تجوید علامہ زراتیتی اور اسکندریہ میں عبد الرحمن فکیری سے حاصل کیا
قدوری، منار، مفصل از زمخشری ، الفیۃ النحو حفظ کرلیا تھا
قاھرہ سے اسکندریہ واپس آئے علم نحو جمال یوسف حمیدی سے لیا
اور فقہ مکمل علامہ قاری الھدایہ سے 18 سال تک ان کی خدمت میں رہ کر حاصل فرماتے رہے
علامہ ابن ھمام قاھرہ تشریف لائے شباب ھیثمی کے پاس قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی
ذھانت وفطانت عقل تام اللہ نے ودیعت فرمائی تھی خاموش طبعیت کے مالک تھے تحقیق کا جنون رہتا تھا پیچیدہ لاینحل مسائل میں توانائ صرف فرماتے
تجوید علامہ زراتیتی اور اسکندریہ میں عبد الرحمن فکیری سے حاصل کیا
قدوری، منار، مفصل از زمخشری ، الفیۃ النحو حفظ کرلیا تھا
قاھرہ سے اسکندریہ واپس آئے علم نحو جمال یوسف حمیدی سے لیا
اور فقہ مکمل علامہ قاری الھدایہ سے 18 سال تک ان کی خدمت میں رہ کر حاصل فرماتے رہے
منطق عبد السلام بغدادی اور علامہ بساطی سے ، اصول دین بھی علامہ بساطی سے حاصل کیا شرح ھدایہ الحکمہ لملازادہ بھی پڑھی
شرح المطالع جلال ھندی سے پڑھی
بحث ومباحثہ کا عالم یہ تھا کہ علم تفسیر کے استاذ علامہ بدر الاقصرانی کے پاس حاضر ہوتے اور اس قدر دقیق بحثیں ان کے ساتھ کرتے کہ لایجد البدر لہ مخلصا
علامہ بدر بھی خلاصی بآسانی نہ پاتے
بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ وفور ذکاوت بحث ومباحثہ والی طبیعت کی بنیاد پر جب آپ کی آمد ہوتی تو درس منقطع کردیا جاتا
علامہ بدر بھی خلاصی بآسانی نہ پاتے
بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ وفور ذکاوت بحث ومباحثہ والی طبیعت کی بنیاد پر جب آپ کی آمد ہوتی تو درس منقطع کردیا جاتا
علامہ سراج یعنی قاری الھدایہ کے پاس مسلسل 18 سال تک فقہ حاصل کیا بحث و تمحیص ،تحقیق میں وصف کمال سے متصف ہوئے
لیکن فقہ حدیث تفسیر کی طرف متوجہ ہوئے اور مابقیہ کو ترک کردیا
علامہ سراج قاری الھدایہ فرماتے ہیں کہ افاد اکثر مما استفاد
استفادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا
علامہ سراج قاری الھدایہ فرماتے ہیں کہ افاد اکثر مما استفاد
استفادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا
اس قدر علم ہونے کے باجود تواضع انکساری حد درجہ تھی علاء بخاری کی مجلس میں پہنچے اور حلقہ کے جانب بیٹھ گئے حضرت علاء درس میں مشغول تھے پھر آپ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے میری جگہ میرے بغل میں تشریف لائیں کیونکہ ان حاضرین میں سے ہر شخص آپ کی تقدیم اور تعظیم کا معتقد ہے
مقام قدس اور حلب ،حصول علم کی غرض سے حاضر ہوئے
مقام قدس اور حلب ،حصول علم کی غرض سے حاضر ہوئے
علامہ برھان ابناسی نے کہا ہمارے شیخ بساطی اگر چہ علم میں زائد ہیں مگر کمال یعنی ابن ھمام ان سے احفظ اور حاضر ذھن ہیں
مولاناعبدالحیی لکھنوی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کان اماما نظارا فروعیااصولیا محدثا مفسرا حافظا نحویا متکلما منطقیا آپ ایک پیشوا ، عمیق نظرسے پرکھنے والے، اصول و فروع میں ماہر، تفسیر ، حدیث، حفظ، منطق، نحو اور علمِ کلام کے میدان کے شہسوار تھے۔زرکلی نے ان الفاظ کے ساتھ آپ کاتذکرہ کیاہے امام من علماء الحنفيةعارف باصول الدیانات آپ علماء احناف میں بڑے درجے کے امام تھے۔ دین کے بنیادی اصولوں ، تفسیر، میراث ، حساب، لغت ، موسیقی اورمنطق کے عالم تھے۔ زین الدین ابن نجیم مصریؒ نے آپ کو اہل ترجیح میں شمار کیا ہے۔
علامہ شامی نے آپ کو اہل اجتہاد میں شمار فرمایا ہے
علامہ شامی نے آپ کو اہل اجتہاد میں شمار فرمایا ہے
علامہ بساطی نے علاء بخاری کے ساتھ جب مناظرہ کیا ابن فارض کے سبب تو سوال یہ ہوا کہ حکم کس کو قراد دیا جائے جب آپ دونوں اکابر مناظر کی حیثیت سے جلوہ فرما ہونگیں تو جواب آیا ابن ھمام کیونکہ وہ صالح ہیں کہ علماء کے درمیان فیصلہ فرمائیں
یحی بن عطار کہتے ہیں ابن ھمام کی ذات ضرب المثل تھی مثال دی جاتی تھی جمال کے ساتھ ساتھ حفظ نفس ، حسن نغمہ کے ساتھ دیانت اور فصاحت میں ادب کے ساتھ بحث کی استقامت میں
منصب تدریس جس وقت آپ نے سنبھالا اس وقت ایک اجلاس عمل میں لایا گیا آپ کے شیوخ مثلا شیخ بساطی علامہ قاری الھدایہ علامہ بدر اقصرانی و دیگر بندۂ خدا کی موجودگی مجلس کی مسند صدارت پر جلوہ بار ہونے سے ادبا منع فرما دیا بعد تمام اصرار کے علامہ قاری الھدایہ کی جگہ تشریف فرما ہوئے اور اللہ کے فرمان یوتی الحکمۃ من یشاء پر شرح وبسط کے ساتھ کلام فرمایا
آپ کے چند شاگرد جو بذات خود وقت کے امام ہوئے ہیں
علامہ سخاوی ، علامہ سیوطی، زکریا انصاری ، قاسم بن قطلوبغا ، ابن امیر الحاج رحمہھم اللہ تعالیٰ
آپ نے کئ عظیم کتابیں امت کو عطا فرمائی ہیں فتح القدیر فقہ حنفی کی مایہ ناز معتمد مشہور و معروف کتاب ہے جو کہ شرح ہے ھدایہ لامام مرغینانی کی
علامہ سخاوی ، علامہ سیوطی، زکریا انصاری ، قاسم بن قطلوبغا ، ابن امیر الحاج رحمہھم اللہ تعالیٰ
آپ نے کئ عظیم کتابیں امت کو عطا فرمائی ہیں فتح القدیر فقہ حنفی کی مایہ ناز معتمد مشہور و معروف کتاب ہے جو کہ شرح ہے ھدایہ لامام مرغینانی کی
نہایت مقبول ہے علامہ ابن ھمام نے تحقیق کے دریا بہائے ہیں احادیث مبارکہ یا آیت کریمہ اپنے مذھب کی تائید میں ضرور پیش فرماتے بعض مقام پر تفرد بھی اختیار کیا ہے جمہور کے قول سے الگ تھلگ اپنی رائے قائم فرمائ ہے جس سے علمی تمکن کا اندازہ ہوتا ہے
،لیکن تکمیل نا کرسکے کہ حاضر بارگاہ رب العلی ہوگئے اس وقت تک باب الوکالۃ تک تحریر فرمایا تھا بعد ازاں علامہ قاضی زادہ المتوفی 988ھ نے تکمیل فرمائی
اصول فقہ میں التحریر ، المسایرۃ فی اصول الدین علم کلام میں لاجواب یادگار چھوڑی ہے
ان کی تصانیف میں ایک اور رسالہ شامل ہے جو بخاری شریف کی آخری حدیث کلمتان حبیبتان کے متعلق سوال کے جواب میں ہے جس میں ایک عورت ایک رقعہ لے کر آپ کے پاس آئی اور کہا کہ ایک شخص نے بھیجا ہے
جس میں سوال تھا قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کلمتان حبیبتان کے اعراب کے متعلق کیا یہ مبتدا اور سبحان اللہ خبر ہے ؟ یا اس کا عکس ؟ اور جن لوگوں نے سبحان اللہ کو ابتداء کے لئے متعین کردیا ہے ان کا قول صحیح ہے یا نہیں ؟ اور جن لوگوں نے سبحان اللہ پر نصب لازم قرار دیا ان کا قول صحیح ہے یا نہیں ؟
پھر آپ نے اس کا جواب عطا فرمایا جو اس کتاب میں درج ہے
(کتاب مجھے نا مل سکی )
جس میں سوال تھا قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کلمتان حبیبتان کے اعراب کے متعلق کیا یہ مبتدا اور سبحان اللہ خبر ہے ؟ یا اس کا عکس ؟ اور جن لوگوں نے سبحان اللہ کو ابتداء کے لئے متعین کردیا ہے ان کا قول صحیح ہے یا نہیں ؟ اور جن لوگوں نے سبحان اللہ پر نصب لازم قرار دیا ان کا قول صحیح ہے یا نہیں ؟
پھر آپ نے اس کا جواب عطا فرمایا جو اس کتاب میں درج ہے
(کتاب مجھے نا مل سکی )
آپ امام وقت علامہ زماں اصول دین وتفسیر وفقہ و اصول فقہ میں شان تبحر کے حامل علم فرائض ،حساب ، تصوف ،نحو صرف ، معانی ، بیان ، بدیع ، منطق ،جدل ادب، قواعد موسیقی کے ماہر تھے علوم عقلیہ و نقلیہ میں ممتاز تھے
اھل ارض کے عالم محقیقین کی صف اول میں حجۃ قاہرہ وباھرہ رکھنے والے انوکھے محقق تھے
اگر عوارض بدنیہ لاحق نہ ہوتے تو کہا جاتا ہے کہ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوتے
مجمع البحرین سے کتنے عظیم موتی آپنے نکالے اور کتنے فتنوں کو دفن کیا ، جہل کے میدان میں علم کی آگ روشن کی ، علماء کی ایک جماعت پیدا کی جو اپنی زندگی میں سردار ہوئے
اگر عوارض بدنیہ لاحق نہ ہوتے تو کہا جاتا ہے کہ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوتے
مجمع البحرین سے کتنے عظیم موتی آپنے نکالے اور کتنے فتنوں کو دفن کیا ، جہل کے میدان میں علم کی آگ روشن کی ، علماء کی ایک جماعت پیدا کی جو اپنی زندگی میں سردار ہوئے
7 رمضان المبارک 61ھ کو عظیم ستارہ علم وفضل ہم سے رخصت ہوا
مقام قرافہ میں ابن عطاء اللہ کی تربت کے بغل میں ہی آپ کی قبر انور ہے
آپ نے اپنے جیسا کسی کو نا چھوڑا
اللہ تعالی قبر انور پر رحمت ونور کی بارش فرمائے حضرت کے فیوض سے ہم سب کو مستفیض فرمائے
✍️ہشام الدین قادری حنیفی مرکزی
